Showing posts with label famous poems by. Show all posts
Showing posts with label famous poems by. Show all posts

Wednesday, August 14, 2013

Urdu Poetry

فیض احمد فیض 



دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں 
جیسے بچھڑے ہوئے کعبے میں صنم آتے ہیں 

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب 
آج تم یاد بے حساب آئے 

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں 
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے 

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے 
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے 

کہاں گئے شب ہجراں کے جاگنے والے 
ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے 

رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام 
موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام 


                                             (فیض احمد فیض )


Friday, June 7, 2013

احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی 



دشمن بھی جو چاہے تو مری چھاؤں میں بیٹھے 
میں ایک گھنا پیڑ سر راہ گزر ہوں 

وہ اعتماد ہے مجھ کو سرشت انساں پر 
کسی بھی شہر میں جاؤں ، غریب شہر نہیں 

میں تو اس وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے 
یہ اگر ضبط کا آنسو ہے ، تو ٹپکا کیسے ؟

جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے 
مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا 

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا 
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا 

حیران ہوں کہ دار سے کیسے بچا ندیم 
وہ تو غریب و غیور انتہا کا تھا 

پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے تیرے کوچے کا پتہ 
تیرے حالات نے کیسی تیری صورت کر دی 

پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا سہارا تیرا 

                                (احمد ندیم قاسمی )


Thursday, May 30, 2013

فیض احمد فیض

فیض احمد فیض 


ساتھ جیسے بہتا چلا جاتا ہے 
شام کے یہ پیچ و خم ، ستاروں سے 

زینہ زینہ اتر رہی ہے رات 
یوں صبا پاس سے گزرتی ہے 

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات 
اور پھر یہ سحر کار لائنیں کہ 

جلوہ گاہ و وصال کی شمعیں 
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا 

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں 

                                                      (فیض احمد فیض )


Sunday, March 24, 2013

Poetry of Khalid Ahmed

ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں 



ترک تعلقات پہ رویا نہ تو نہ میں 
لیکن یہ کیا کہ چین سے سویا نہ تو نہ میں 

حالات کے طلسم نے پتھرا دیا مگر 
بیتے سموں کی یاد میں کھویا نہ تو نہ میں

ہر چند اختلاف کے پہلو ہزار تھے 
وا کر سکا لب گویا نہ تو نہ میں 

نوحے فصیل ضبط سے اونچے نہ ہو سکے 
کھل کر دیار سنگ میں رویا نہ تو نہ میں 

جب بھی نظر اٹھی تو فلک کی طرف اٹھی 
برگشتہ آسمان سے گویا نہ تو نہ میں 

                                      (خالد احمد )


Thursday, March 7, 2013

نشیمنوں کو جلا کر کیا چراغاں خوب

نشیمنوں کو جلا کر کیا چراغاں خوب



نشیمنوں کو جلا کر کیا چراغاں خوب 
سنوارتے ہیں یونہی چہرہ گلستاں خوب 

کھلا کے دل و جاں پہ پھول زخموں کے 
مسرتوں کو کیا آپ نے نمایاں خوب 

لہو اچھال کے اہل وفا کا راہوں میں 
قدم قدم پہ کیا پاس دل فگاراں خوب 

مچی ہے چاروں طرف آپ کے کرم کی دھوم 
نبھاۓ آپ نے الفت کے عہد و پیماں خوب 

ہر اک بجھتا ہوا دیپ کہہ رہا ہے یہی 
تمام رات رہا جشن نوبہاراں خوب 

                          (حبیب جالب )


Friday, February 22, 2013

ہجرت کریں گے

ہجرت کریں گے 




(محمّد اظہار الحق )



Thursday, February 21, 2013

ایک چوری اوپر سے سینہ زوری

ایک چوری اوپر سے سینہ زوری 



آج کل کے بہت مہان "دانشور " اور جدید اردو شاعری کے خود ساختہ سرخیل جناب وصی شاہ کی اٹھان ایک چوری شدہ نظم سے ہوئی- اپنے ہی لکھے ہوئے ایک تھرلر ڈرامہ میں اپنی ہی کاسٹ کی ہوئی ایک ہیروئن کو ایک چوری کی ہوئی نظم سنا کر شہرت کی بلندیوں کو چھو لینے والے ایک سرقہ باز کے سرقے کی ایک مثال پیش خدمات ہے -



مجید امجد


کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتامیں

تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول

میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں

اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں
جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے

ملتا اس گوش کا پھر گوشہ مانوس مجھے
کان سے تو مجھے ہر گز نہ اتارا کرتی

تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی
یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش

عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش
کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا


ملاحظہ فرمائیں اب آج کل کے "دانشور" کا سرقہ 


وصی شاہ 


کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرصت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا

رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اِک تکیہ بنایا کرتی

میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زُلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا

جب بھی تو بندِ قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو تیرے حسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا


Originally published @ urdu mehfil



Wednesday, February 20, 2013

Urdu Poetry | Syed Zamir Hussain Jafri

لہو کا نرخ 


پھر اک الجھن شعلہ بن کر لپکی شہر جلانے کو 
پھر اک صر صر غم لے آئی بستی میں ویرانے کو 
کھول دیے خود اپنے جبڑے اپنا گوشت چبانے کو 

کیا ہم کو یہ ہاتھ ملے تھے اپنی لاش اٹھانے کو 

اپنے چاند "غروبے " ہم نے اپنے پھول اجاڑیں ہم 
اپنے ہاتھ اپنے جسم کو ، پرزے پرزے پھاڑیں ہم 
اپنے لہو کی پیاس اٹھی ہے ، اپنا نرخ چکانے کو 

کیا ہم کو یہ ہاتھ ملے تھے اپنی لاش اٹھانے کو 

(سید ضمیر جعفری )


Monday, February 18, 2013

چل انشاء اپنے گاؤں میں

چل انشاء اپنے گاؤں میں 


چل انشاء اپنے گاؤں میں 
یہاں الجھے الجھے روپ بہت 

پر اصلی کم ، بہروپ بہت 
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا 

جہاں سایہ کم ہو ، دھوپ بہت 
چل انشاء اپنے گاؤں میں 

بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں 
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے ؟

یہاں ہر اک بات نرالی ہے 
اس دیس بسیرا مت کرنا 

یہاں مفلس ہونا گالی ہے 
چل انشاء اپنے گاؤں میں

 (ابن انشاء )


Wednesday, November 14, 2012

حبیب جالب

حبیب جالب 


An old poem of Habib Jalib he wrote it when Ayub Khan was governing Pakistan.

Friday, November 9, 2012

علامہ اقبال

علامہ اقبال



Tuesday, October 30, 2012

فیض احمد فیض

فیض احمد فیض 


راتوں کی خموشی میں 
چھپ کر کبھی رو لینا 
مجبور جوانی کے 
ملبوس کو دھو لینا 
جذبات کی وسعت کو 
سجدوں سے بسا لینا 
بھولی ہوئی یادوں کو 
سینے سے لگا لینا 
                                                (فیض احمد فیض )