Friday, May 24, 2013

تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی

تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی


تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی 
تم نے بازاروں میں عقلوں کی خریداری کی 

اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی خوداری کی 
خوف کو رکھ لیا خدمات پہ طمعداری کی 


اور آج تم مجھ سے میری جنس گراں مانگتے ہو ؟
حلف ذہن و وفاداری جاں مانگتے ہو 

جاؤ یہ چیز کسی مداح سرا سے مانگو 
طائفے والوں سے ڈھولک کی صدا سے مانگو 

مجھ سے بولو گے تو خنجر سے عدو بولے گا 
گردنیں کاٹ بھی دو گے تو لہو بولے گا   

1 comment:

  1. لکھنے میں بحور و اوزان اور املا کی اغلاط ہیں ۔ مثلا مدح سرا کو مداح سرا لکھ کر املا بھی بگاڑ دی اور وزن بھی۔ درستگی فرما لیں اور شاعر کا نام بھی لکھیں

    ReplyDelete