This blog represents the randomness in itself. It has poetry, short stories, memorable quotes from films, books and TV series and above all the reverberation of thoughts we encounter on and off.
Showing posts with label Ahmed Nadeem Qasmi. Show all posts
Showing posts with label Ahmed Nadeem Qasmi. Show all posts
Monday, June 10, 2013
Friday, June 7, 2013
احمد ندیم قاسمی
احمد ندیم قاسمی
دشمن بھی جو چاہے تو مری چھاؤں میں بیٹھے
میں ایک گھنا پیڑ سر راہ گزر ہوں
وہ اعتماد ہے مجھ کو سرشت انساں پر
کسی بھی شہر میں جاؤں ، غریب شہر نہیں
میں تو اس وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے
یہ اگر ضبط کا آنسو ہے ، تو ٹپکا کیسے ؟
جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
حیران ہوں کہ دار سے کیسے بچا ندیم
وہ تو غریب و غیور انتہا کا تھا
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے تیرے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری صورت کر دی
پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا سہارا تیرا
(احمد ندیم قاسمی )
Friday, May 31, 2013
Memoirs | Ahmed Nadeem Qasmi
Ahmad Nadeem Qasmi | A short autobiography
This was published in Weekly Nidai Millat dated 26 July 2012
Labels:
Ahmed Nadeem Qasmi,
Anwar Sadeed,
Memoirs,
Nidai Millat
Sunday, February 24, 2013
A column on Ahmad Fraz
In memory of Ahmed Fraz
This column was published in Daily Jang dated 23 Feb, 2013
Subscribe to:
Posts (Atom)