Showing posts with label anonynmous. Show all posts
Showing posts with label anonynmous. Show all posts

Thursday, September 12, 2013

غزل

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا 


وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا 

اب اس کا حال بتائیں کیا ؟

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں 
پھر سچا شعر سنائیں کیا 

اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے 
تا دیر اسے دہرائیں کیا 

وہ زہر جو دل میں اتار لیا 
پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا 

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں 
پھر سچا شعر سنائیں کیا 

اک آگ غم تنہائی کی 
جو سارے بدن میں پھیل گئی 

جب حسن ہی سارا جلتا ہو 
پھر دامن دل کو بچائیں کیا 

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں 
پھر سچا شعر سنائیں کیا 

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے 
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے 

یہ جذبہ شوق سنائیں کیا 
کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا 

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں 
پھر سچا شعر سنائیں کیا 



Monday, March 18, 2013

کل جب رکے گا بازوے قاتل تو دیکھنا

کل جب رکے گا بازوے قاتل تو دیکھنا


کل جب رکے گا بازوے قاتل تو دیکھنا 
اے اہل شہر تم تھے شہید وفا کہ میں 

کل جب تھمے گی خون کی بارش تو سوچنا 
تم تھے عدو کی صف میں سر کربلا کہ میں
                 (نہ معلوم )

Wednesday, March 6, 2013

تم دانستہ بھول گۓ

تم دانستہ بھول گۓ


آدھے آدھے جو بھی کیے تھے 
سارے کام فضول گۓ 

رات ہوئی تو یاد آتے تم 
صبح ہوئی تو بھول گۓ 

بارش اور تمہارا غم 
مشروط ہوا ہے مدت سے 

دور کہیں پر بادل برسے 
آنکھ میں آنسو جھول گۓ 

کتنی دیر ہنسے تھے جب 
میں نے جھوٹی تعریفیں کیں 

تم دانستہ بھول گۓ 

                                              (نا معلوم )