Showing posts with label Pakistani poets. Show all posts
Showing posts with label Pakistani poets. Show all posts

Monday, March 18, 2013

Memoirs

Meera Jee | The Vegabond


This article was published in weekly Nidai-Millat dated 21-27 Feb 2013

یہ مضمون ہفت روزہ نداۓ ملّت میں مورخہ ٢١ فروری ٢٠١٣  شائع ہوا

Monday, March 11, 2013

بیوی سے خطاب

بیوی سے خطاب 


                                               (نعیم صدیقی )


Thursday, March 7, 2013

نشیمنوں کو جلا کر کیا چراغاں خوب

نشیمنوں کو جلا کر کیا چراغاں خوب



نشیمنوں کو جلا کر کیا چراغاں خوب 
سنوارتے ہیں یونہی چہرہ گلستاں خوب 

کھلا کے دل و جاں پہ پھول زخموں کے 
مسرتوں کو کیا آپ نے نمایاں خوب 

لہو اچھال کے اہل وفا کا راہوں میں 
قدم قدم پہ کیا پاس دل فگاراں خوب 

مچی ہے چاروں طرف آپ کے کرم کی دھوم 
نبھاۓ آپ نے الفت کے عہد و پیماں خوب 

ہر اک بجھتا ہوا دیپ کہہ رہا ہے یہی 
تمام رات رہا جشن نوبہاراں خوب 

                          (حبیب جالب )


Wednesday, March 6, 2013

تم دانستہ بھول گۓ

تم دانستہ بھول گۓ


آدھے آدھے جو بھی کیے تھے 
سارے کام فضول گۓ 

رات ہوئی تو یاد آتے تم 
صبح ہوئی تو بھول گۓ 

بارش اور تمہارا غم 
مشروط ہوا ہے مدت سے 

دور کہیں پر بادل برسے 
آنکھ میں آنسو جھول گۓ 

کتنی دیر ہنسے تھے جب 
میں نے جھوٹی تعریفیں کیں 

تم دانستہ بھول گۓ 

                                              (نا معلوم )


Tuesday, March 5, 2013

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوے کوہ و کن

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوے کوہ و کن

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوے کوہ و کن by C@MARADERIE [Cleaning silent contacts]

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوے کوہ و کن
مجھ کو پھر نغموں پر اکسانے لگا مرغ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے ، نیلے نیلے ، پیلے پیلے پیرہن

برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کوسورج کی کرن

حسن بے پرواہ کو اپنی بے نقابی کے لیے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن

من کی دنیا ؟ من کی دنیا ! سوز و مستی جذب وشوق
تن کی دنیا ؟ تن کی دنیا ! سود و سودا مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

علامہ محممد اقبال




Once again the tulip lamps have illuminated the hill and vale,
I am again inspired to sing by the singing nightingale 

Are these multicolored flowers,or fairies ranged in rows,
Yellow, blue and purple, attractive are their robes

The breeze has placed a dewy pearl on the brow of rose,
The radiant sun is giving it luster, adding to its glow 

If carefree beauty chooses forests, not the towns for its display,
Betwixt the forest and the town, which then is a better place.

Sink into your heart and sees the life's secret buried beneath,
If you cannot be true to me, be true to yourself, at least,

The world of mind? The world of the mind is love, longing joy and zests,
The world of body is profit and loss, cunning, craft, jokes and jests.

Once attained the wealth of mind forever lives and lasts,
The wealth of body, shadow like always flips and flops

Allama Muhammad Iqbal




Sunday, February 24, 2013

جو اتر کر زینہ شام سے

جو اتر کر زینہ شام سے


جو اتر کر زینہ شام سے تیری چشم خوش میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے سے مہر و ماہ مرے بام و در کو سجا گئے

یہ عجیب کھل ہے عشق کا میں نے آپ دیکھا یہ معجزہ  
وہ  جو لفظ مرے گماں میں تھے وو تیری زبان پر آ گے

وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی  تھی داستان جسے تم ہنسی میں اڑا گے

وہ  چراغ جاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تیری بیوفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گۓ

وہ تھا چاند چشم  وصال کا کہ روپ تیرے جمال کا
میری روح سے میری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گۓ

یہ جو بندگان نیاز ہے یہ تمام ہیں وہ  لشکری
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی تو تیرے حضور میں آ گۓ

تیری بےرخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہوا ہوا
تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گۓ

تیرے وسوسوں کے فشار میں تیرا شرر رنگ اجڑ گیا
میرے خواہشوں  کے غبار میں میرے ماہ و سال وفا گۓ

وہ عجیب پھول سے لفظ تھے تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
میرے دشت خواب میں دور تک کوئی باغ  جیسے لگا گۓ

میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے
تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری اک نگاہ میں آ گۓ

(امجد اسلام امجد)


Friday, February 22, 2013

ہجرت کریں گے

ہجرت کریں گے 




(محمّد اظہار الحق )



Thursday, February 21, 2013

ایک چوری اوپر سے سینہ زوری

ایک چوری اوپر سے سینہ زوری 



آج کل کے بہت مہان "دانشور " اور جدید اردو شاعری کے خود ساختہ سرخیل جناب وصی شاہ کی اٹھان ایک چوری شدہ نظم سے ہوئی- اپنے ہی لکھے ہوئے ایک تھرلر ڈرامہ میں اپنی ہی کاسٹ کی ہوئی ایک ہیروئن کو ایک چوری کی ہوئی نظم سنا کر شہرت کی بلندیوں کو چھو لینے والے ایک سرقہ باز کے سرقے کی ایک مثال پیش خدمات ہے -



مجید امجد


کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتامیں

تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول

میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں

اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں
جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے

ملتا اس گوش کا پھر گوشہ مانوس مجھے
کان سے تو مجھے ہر گز نہ اتارا کرتی

تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی
یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش

عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش
کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا


ملاحظہ فرمائیں اب آج کل کے "دانشور" کا سرقہ 


وصی شاہ 


کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا
تو بڑے پیار سے چاؤ سے بڑے مان کے ساتھ

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھاتی مجھ کو
اور بے تابی سے فرصت کے خزاں لمحوں میں

تو کسی سوچ میں ڈوبی جو گھماتی مجھ کو
میں تیرے ہاتھ کی خوشبو سے مہک سا جاتا

جب کبھی موڈ میں آ کر مجھے چوما کرتی
تیرے ہونٹوں کی میں حدت سے دہک سا جاتا

رات کو جب بھی نیندوں کے سفر پر جاتی
مرمریں ہاتھ کا اِک تکیہ بنایا کرتی

میں تیرے کان سے لگ کر کئی باتیں کرتا
تیری زُلفوں کو تیرے گال کو چوما کرتا

جب بھی تو بندِ قبا کھولنے لگتی جاناں
اپنی آنکھوں کو تیرے حسن سے خیرہ کرتا

مجھ کو بے تاب سا رکھتا تیری چاہت کا نشہ
میں تیری روح کے گلشن میں مہکتا رہتا

میں تیرے جسم کے آنگن میں کھنکتا رہتا
کچھ نہیں تو یہی بے نام سا بندھن ہوتا

کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا


Originally published @ urdu mehfil



Wednesday, February 20, 2013

Fakhira Batool | An assessment by Aitbar Sajid

Fakhira Batool | An assessment by Aitbar Sajid


This article was published in weekly Nidai-Millat dated 14-20 Feb, 2013

Urdu Poetry | Syed Zamir Hussain Jafri

لہو کا نرخ 


پھر اک الجھن شعلہ بن کر لپکی شہر جلانے کو 
پھر اک صر صر غم لے آئی بستی میں ویرانے کو 
کھول دیے خود اپنے جبڑے اپنا گوشت چبانے کو 

کیا ہم کو یہ ہاتھ ملے تھے اپنی لاش اٹھانے کو 

اپنے چاند "غروبے " ہم نے اپنے پھول اجاڑیں ہم 
اپنے ہاتھ اپنے جسم کو ، پرزے پرزے پھاڑیں ہم 
اپنے لہو کی پیاس اٹھی ہے ، اپنا نرخ چکانے کو 

کیا ہم کو یہ ہاتھ ملے تھے اپنی لاش اٹھانے کو 

(سید ضمیر جعفری )


Monday, February 18, 2013

Hafeez Taib | An introduction by Anwar Sadeed

Hafeez Taib | Autobiography by Anwar Sadeed

This article was originally published in Weekly Nidai Millat, Pakistan dated Feb 18, 2013


Friday, February 15, 2013

Sufi Ghulam Mustafa Tabassum

Sufi Ghulam Mustafa Tabassum 


This article was published in Daily Jang dated 15th of February, 2013