Showing posts with label anonymous. Show all posts
Showing posts with label anonymous. Show all posts

Wednesday, November 5, 2014

Couplet



دن کےہاتھوں میں فقط ایک سلگتاسورج 
رات کی مانگ ستاروں سےمزین دیکھوں

 کہیں مرجھائےہوئےپھول ہیں سچائی کے
 اورکہیں جھوٹ کےکانٹوں پہ بھی جوبن دیکھوں

شمس کی کھال کہیں کھچتی نظر آتی ہے
 کہیں سرمد کی اترتی ہوئی گردن دیکھوں


Tuesday, January 14, 2014

شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم مِلے تمہیں

Urdu Poetry


شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم مِلے تمہیں
تم سر بسر خوشی تھے مگر غم مِلے تمہیں

تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم مِلے تمہیں

میں اُن میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا
جاناں! جو میرے شوق کے عالم مِلے تمہیں

تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اُس میں بہت خم مِلے تمہیں

یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوّا مِلے مجھے
یوں ہو کہ اور ہی کوئی آدم مِلے تمہیں

Friday, September 20, 2013

Verse

Urdu Poetry



ہم پر الزام توویسے بھی ہے ایسے بھی سہی

 نام بدنام تو ویسے بھی ہے ایسے ہی سہی 




Tuesday, September 17, 2013

Couplet

Urdu Poetry 



اس تعمیر کے کچھ بوسیدہ سنگ جو تجھ پہ گر جائیں
اس خواب کے کچھ نوکیلے خار جو تجھ کو چبھ جائیں

پھر میں پوچھوں گا بتا خواب یہ تابناک کتنا ہے
تعمیر کا اور معماروں کا تجھ کو ادراک کتنا ہے


Wednesday, September 11, 2013

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں 




کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں 
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں 

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینی حسن کو بڑھنے دو 
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بهی ،الله تم اٹھ کر آ نا سکے 
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں 

اب نزاع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو 
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں 

تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

Sunday, September 1, 2013

Couplet |

Urdu Poetry



ایک لمحے میں کٹا ہے مدتوں کا فاصلہ
میں ابھی آیا ہوں تصویریں پرانی دیکھ کر



Sunday, August 25, 2013

Poetry

Urdu Couplets 


سحرکی خوشیاں منانےوالو
 سحر کےتیور بتا رہے ہیں

 ابھی تواتنی گھٹن بڑھےگی
کہ سانس لینا محال ہو گا

 جنہوں نےبستی اجاڑ ڈالی
 کبھی توان کا حساب ہو گا

Saturday, August 10, 2013

Poetry

Urdu Couplet



شمع کی مانند ہم اس بزم میں
 چشم نم آئے تهے دامن تر چلے


Monday, August 5, 2013

Poetry

Urdu couplets


یہ ورق ورق تیری داستان
 یہ سبق سبق تیرے تذکرے

 میں کروں تو کیسے کروں الگ
 تجهے ذندگی کی کتاب سے

Tuesday, July 16, 2013

One verse

ایک شعر 


فقط باتیں اندهیروں کی محض قصے اجالوں کے 
 چراغ آرزو لے کر نہ تم نکلے نہ ہم نکلے


Saturday, June 8, 2013

One Verse | ایک شعر

ایک شعر 


کیسا کیسا بول رہے ہیں پودے جیسے لوگ 
پیڑ بڑے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ 


Tuesday, June 4, 2013

بچپن

بچپن 

گرمیوں میں جب گھر والے سو جاتے تھے 
دھوپ کی انگلی تھام کے ہم چل پڑتے تھے 

ہمیں پرندے کتنےپیار سے تکتے تھے 
ہم جب ان کے سامنے پانی رکھتے تھے 

موت اپنی آغوش میں ہمیں چھپاتی تھی 
قبرستان میں جا کر کھیلا کرتے تھے 

راستے میں اک ان پڑھ دریا پڑتا تھا 
جس سے گزر کر پڑھنے جایا کرتے تھے 

جیسے سورج آ کر پیاس بجھانے گا 
صبح سویرے ایسے پانی بھرتے تھے 

اڑنا ہم کو اتنا اچھا لگتا تھا 
چڑیاں پکڑ کر انکو چوما کرتے تھے 

تتلیاں آ کر ہم کر بیٹھا کرتی تھیں 
ہم پھولوں سے اتنا ملتے جلتے تھے 

ملی تھی جنہیں جوانی راستے میں 
ہم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے 



Monday, June 3, 2013

ضعیف گر نظر پڑے رسول کا جمال بن

ضعیف گر نظر پڑے رسول کا جمال بن


ضعیف گر نظر پڑے رسول کا جمال بن 
قوی اگر ہو سامنے تو قہر ظل جلال بن 

خدا کے آگے سر جھکا کہ سر کشوں کا سر جھکے 
قضا ستم گروں کی ہو ستم زدوں کی ڈھال بن 


Saturday, June 1, 2013

Urdu couplet

Urdu couplets 




میرے بس میں اگر ہوتا ہٹا کر چاند تاروں کو
میں نیلے آسماں پہ تیری آنکھیں بنا دیتا 

شجر ہوتا تو لکھ لکھ کے تمہارا نام پتوں پر
تمہارے شہر کی جانب ہواؤں میں اڑا دیتا 

                         (نا معلوم )

Wednesday, May 29, 2013

Urdu Poetry | ہم دھرتی کے پہلے کیڑے

ہم دھرتی کے پہلے کیڑے



ہم دھرتی کے پہلے کیڑے ہم دھرتی کا پہلا ماس

دل کے لہو سے سانس ملا کے سُچا نور بناتے ہیں
اپنا آپ ہی کھاتے ہیں اور ریشم بُنتے جاتے ہیں

خواب نگر کی خاموشی اور تنہائی میں پلتے ہیں
صاف مصفّا اُجلا ریشم تاریکی میں بُنتے ہیں

کس نے سمجھا کیسے بُنے ہیں چاندی کی کرنوں کے تار
کُنجِ جگر سے کھینچ کے لاتے ہیں ہم نُور کے ذرّوں کو

شرماتے ہیں دیکھ کے جن کو نیل گگن کے تارے بھی
ہم کو خبر ہے ان کاموں جاں کا زیاں ہو جاتا ہے

لیکن فطرت کی مجبوری ہم ریشم کے کیڑوں کی
سُچا ریشم بُنتے ہیں اور تار لپیٹتے جاتے ہیں

آخر گُھٹ کے مر جاتے ہیں ریشم کی دیواروں میں
کوئی ریشم بُن کے دیکھے اتنے سارے آزاروں میں