Wednesday, September 11, 2013

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں 




کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں 
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں 

پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینی حسن کو بڑھنے دو 
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں

جاتی ہوئی میت دیکھ کے بهی ،الله تم اٹھ کر آ نا سکے 
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں 

اب نزاع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو 
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں 

تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

No comments:

Post a Comment