This blog represents the randomness in itself. It has poetry, short stories, memorable quotes from films, books and TV series and above all the reverberation of thoughts we encounter on and off.
Monday, February 18, 2013
چل انشاء اپنے گاؤں میں
چل انشاء اپنے گاؤں میں
چل انشاء اپنے گاؤں میں
یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم ، بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو ، دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے ؟
یہاں ہر اک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم ، بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
جہاں سایہ کم ہو ، دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں
کیوں تیری آنکھ سوالی ہے ؟
یہاں ہر اک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
(ابن انشاء )
Labels:
famous poems by,
Ibn Insha,
Urdu poetry,
Village life
Friday, February 15, 2013
Sufi Ghulam Mustafa Tabassum
Sufi Ghulam Mustafa Tabassum
This article was published in Daily Jang dated 15th of February, 2013
Monday, February 4, 2013
برے موذی کو مارا نفسٍ امارہ کو گر مارا
برے موذی کو مارا نفسٍ امارہ کو گر مارا ......... نہنگ و اژدھا و شیرٍ نر مارا تو کیا مارا؟, a photo by .A.S.H. on Flickr.
برے موذی کو مارا نفسٍ امارہ کو گر مارا ......... نہنگ و اژدھا و شیرٍ نر مارا تو کیا مارا؟
Saturday, January 12, 2013
جناح بمقابلہ فرنگی راج
جناح بمقابلہ فرنگی راج
Following scenario was depicted by Sen. MushahidUllah Khan in a TV interview.
جناح
ہمیں قبول نہیں زندگی اسیری کی
ہم آج طوق سلاسل توڑ ڈالیں گے
ہمارے دیس پر اغیار حکمراں کیوں ہو
ہم اپنے ہاتھ میں لوح قلم سنبھالیں گے
فضا مہیب سہی مرحلے کٹھن ہی سہی
سفینہ حلقہ طوفان سے ہم نکالیں گے
نقوش راہ اگر تیرگی میں ڈوب گۓ
ہم اپنے خوں سے ہزاروں دیۓ جلا لیں گے
فرنگیوں کا جواب
جو لوگ لے کے اٹھے ہیں علم بغاوت کا
انھیں خود اپنی ہلاکت پر نوحہ خواں کر دو
بجھاؤ گرم سلاخوں کو ان کی آنکھوں میں
زبانیں کھینچ لو گدّی سے بےزباں کر دو
ہدف بناؤ دلوں کو سلگتے تیروں کا
صنعا سے جسموں کو چھیدو شکستہ جاں کر دو
محل سرا کی حدوں تک کوئی نہ پہنچ سکے
ہر ایک گام پر ایستادہ افسسودیاں کر دو
جناح
یہ غم نہیں کہ سر دار آ ے جاتے ہیں
ہمیں خوشی ہے وطن کو جگاے جاتے ہیں
ہمارے بعد سے ہی رات تو کٹ جاۓ گی
دلوں میں شمع جانوں کو جلاۓ جاتے ہیں
جوان رہیں گی ہمارے لہو کی تحریریں
سدا بہار شگوفے کھلاۓ جاتے ہیں
ہمارے نقش قدم دیں گے منزلوں کا سراغ
ہمیں شکست نہ ہو گی بتاے جاتے ہیں
Thursday, January 10, 2013
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
ہے سرخ موسم گھٹا نہیں ہے
گھٹن بہت ہے ہوا نہیں ہے
گھری ہیں راتیں دیا نہیں ہے
یہ آسمان بھی نیا نہیں ہے
نہ خوف کھاؤ نہ سر جھکاؤ
اٹھو کہ ظلمت بلا نہیں ہے
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
جہاں کے ہو وہ جہان بیچا
زمین کو بھی آسمان بیچا
بھنور میں ہو بادبان بیچا
یقیں میں تھا جو گمان بیچا
نقد ھتیلی پہ جان رکھ کے
وہیں پھر اپنا مکان بیچا
ملے جو ایسا صلہ نہیں ہے
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
زمین کے بالوں میں خاک دیکھو
اجڑ گیاسب یہ راکھ دیکھو
بکھر گیا ہے جو خواب دیکھو
ہے ہر طرف اب سراب دیکھو
لہو ہے آنکھوں میں اب رگوں کا
تماشا گر کا ساراپ دیکھو
کوئی بھی اب با وفا نہیں ہے
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
یا خدا
لگا ہے موت کا تماشا
اجنبی ہے جو تھا شناشا
کسی کا اپنا رہا نہیں ہے
خدا زمین سے گیا نہیں ہے
In an all wrapping crimson sky
Not a speck of silver lining
The heart weighs heavy
for no breeze blows
In an all wrapping crimson sky
Not a speck of silver lining
The heart weighs heavy
for no breeze blows
In this dark night
No dawn in sight
The spectacle isn't new
Fear not,
No despair,
Rise and fight the demon
God has not abandoned us
They sold the home where they belong
They sold cheap our heaven on earth
They sold the sail while lost in the tide
They sold deception for faith
They sold lives, for what end?
For them no reward here
NO salvation there
God has not abandoned us
Behold the devastated face of their land
To ashes reduced the cradle they rocked
Behold, their dream shattered
Now all but gone, reduced to mirage
Behold, the blood in their eyes
That once ran in their veins
Behold, now the spectacle
that once was their home
See the wild dance of death around
When our own have turned strangers
In this dark autumn when suffocation gains
a ball of fire is about to reign
Loves one of many depart
Believe,
God has not abandoned us
Believe,
God has not abandoned us
Anonymous
Sunday, December 23, 2012
The innocent parrot
The innocent parrot | Kashif Ali Abbas
A brave parrot was flying and singing
He was hit by a fast speeding motorist
The poor parrot fainted on the spot
The kind motorist brought injured bird home
And put him in a cage, with water
The parrot woke up after many hours
He observed the cage and suddenly screamed
"Behind the bars! Oh my God
I have killed the motorist."
(Kahsif Ali Abbas)
Subscribe to:
Posts (Atom)
