Wednesday, November 5, 2014

‏محرم‬

Embedded image permalink

چلو حسینؓ کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہوگا

اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہوگا

Couplet



دن کےہاتھوں میں فقط ایک سلگتاسورج 
رات کی مانگ ستاروں سےمزین دیکھوں

 کہیں مرجھائےہوئےپھول ہیں سچائی کے
 اورکہیں جھوٹ کےکانٹوں پہ بھی جوبن دیکھوں

شمس کی کھال کہیں کھچتی نظر آتی ہے
 کہیں سرمد کی اترتی ہوئی گردن دیکھوں


Tuesday, November 4, 2014

گری ہوئی ٹیم کو کھڑا کرنےوالا کپتان

گری ہوئی ٹیم کو کھڑا کرنےوالا کپتان


مصباح الحق نے اس وقت ٹیم کی کپتانی سنبھالی جب ٹیم کےکپتان اور دو اہم بولر فکسنگ کےجرم میں جیل جا چکے تھے


پاکستانی کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا کےخلاف تازہ ترین دو انتہائی زبردست کامیابیوں نے بارہ سال قبل اسی متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا ہی کے ہاتھوں پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی یاد دلا دی جس میں وہ شارجہ ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں انسٹھ اور ترپن رنز پر ڈھیر ہوئی تھی۔اس ٹیسٹ میں وقاریونس پاکستانی ٹیم کے کپتان تھے جبکہ مصباح الحق اور یونس خان اس ٹیم کا حصہ تھے۔

آج یہ تینوں ایک فاتح ٹیم کے حصے کے طور پر بالکل مختلف روپ میں دنیا کے سامنے کھڑے ہیں۔


آسٹریلوی کرکٹ ٹیم یقیناً پاکستانی کرکٹرز کے ٹیم ورک کے نتیجے میں کٹھ پتلی تماشا بنی ہے لیکن اس ٹیم ورک میں کوچ اور کپتان کا کردار کلیدی رہا ہے۔

وقاریونس کوچ کی حیثیت سے اپنی دوسری مدت میں ایک بار پھر پوری تندہی سے کھلاڑیوں پر محنت کرتے نظر آرہے ہیں اور میدان میں کپتان مصباح الحق نے اپنے کھلاڑیوں کو حریف سے خوب لڑایا ہے۔



خاموش طبع مصباح الحق نے ماضی کی طرح اس بار بھی ناقدین کو اپنی کارکردگی سے جواب دے دیا ہے لیکن اس بار یہ جواب پہلے سے زیادہ موثر ہے۔

حالیہ برسوں میں مصباح الحق کو ایک خاص مقصد کے تحت کی جانے والی تنقید کا سامنا رہا ہے جو اس لیے بھی زیادہ حیران کن معلوم ہوتی رہی ہے کہ ٹیم جیتے اور مصباح الحق دنیا بھر کے بیٹسمینوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی بنے تب بھی ان مخصوص ناقدین کے منہ سے مصباح الحق کی تعریف نہ نکل سکی۔

آج جب مصباح الحق نے آسٹریلیا کے خلاف نئی تاریخ رقم کردی ہے ان بقراطی ناقدین نے اپنے تبصروں کے موضوع ہی بدل ڈالے ہیں۔

یہ مصباح الحق کے کریئر کی سب سے اہم ترین سیریز تھی جس میں نہ صرف وہ خود اپنی زندگی کی یادگار بیٹنگ کرگئے بلکہ ٹیم نے تاریخی فتح کے ساتھ کپتانی 
کی خواہشات رکھنے والوں کو اچھی خاصی تکلیف پہنچا دی۔



اس تمام تر صورتحال میں کریڈٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان کو جاتا ہے جنہوں نے مصباح الحق پر مکمل اعتماد کا برملا اظہار کرکے کپتانی کی خواہشات رکھنےوالوں کو واضح پیغام دے دیا کہ وہ اس جانب اب سوچنا بند کردیں۔

مصباح الحق نے ایک ایسے دور میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی سنبھالی تھی جب سپاٹ فکسنگ نے پاکستانی کرکٹ کے چہرے کو بری طرح مسخ کردیا تھا اور انھیں اس سیاہی کو مٹانے کے لیے کئی یادگار کامیابیاں حاصل کرنی پڑیں۔

آج جب وہ چودہ ٹیسٹ فتوحات میں عمران خان اور جاوید میانداد کے ساتھ اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوا ہے۔

مصباح الحق پر دفاعی انداز اختیار کرنے والے کپتان کاالزام لگتا رہا ہے لیکن اگر اسی انداز نے انہیں کامیاب ترین کپتان بنایا ہے تو پھر یہ بات اس جارحانہ انداز سے کہیں بہتر ہے جسے اختیارکرکے آپ میچ ہارتے چلے جائیں ۔ یہ دلیل کسی اور کی نہیں خود مصباح الحق کی ہے۔

مصباح الحق پر سست رفتاری سے بیٹنگ کا الزام عام سی بات رہی ہے لیکن یہ الزام عائد کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ مصباح الحق نے جب بھی کریز کا رخ کیا ٹیم ان سے مشکل حالات میں ایسی بیٹنگ کا تقاضہ کرتی رہی ہے جس میں شائقین کو تفریح فراہم کرنا ثانوی حیثیت اختیار کرجاتا ہے۔

ابوظہبی ٹیسٹ کی مثال سب کے سامنے ہے جب ان پر کوئی دباؤ نہ تھا اور انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سنچری کی برابری کرڈالی۔

مصباح الحق نے یہ اننگز کھیل کر یہ بھی بتادیا کہ وہ ایسا بھی کھیلنا جانتے ہیں لیکن ان سے پہلے آنے والوں کی جلد وکٹیں گرنے سے ان کے ہاتھ بندھ جایا کرتے ہیں

Monday, November 3, 2014

واہگہ دھماکہ


لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں 
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

فاختہ کی مجبوری یہ بھی کہہ نہیں سکتی 
کون سانپ رکھتا ہے اس کے آشیانے میں

(بشیر بدر )

Friday, January 17, 2014

کبھی بول بھی

Urdu Poetry | کبھی بول بھی


دلِ سوختہ
کبھی بول بھی
جو اسیر کہتے تھے خود کو تیری اداؤں کے وہ کہاں گئے
جو سفیر تھے تیر ی چاہتوں کی فضاؤں کے وہ کہاں گئے
وہ جو مُبتلائے سفر تھے تیرے خیال میں
وہ جو دعویدار تھے عمر بھی کی وفاؤں کے وہ کہاں گئے
کبھی کوئی راز تو کھول بھی
کبھی بول بھی

دلِ نا خدا
کبھی بول بھی
جو تیرے سفینۂ دار و غم کے سوار تھے
جو تیرے وظیفہ ء چشمِ نم پہ نثار تھے
وہ جو ساحلوں پہ اُ تر گئے تو پھر اُس کے بعد پلٹ کے آئے کبھی نہیں
تیری لہر لہر پہ جن کے نقش و نگار تھے
کسی دن ترازوئے وقت پر
اُنہیں تول بھی
کبھی بول بھی

دلِ بے نوا
کبھی بول بھی
وہ جو تیرے نغمۂ زیرو بم کے امین تھے
جو تیرے طفیل بلندیوں کے مکین تھے
و ہ جو معترف تھے تری نگاہِ نیاز کے
تمھیں جن پہ سو سو یقین تھے
وہ چکا گئے تیرا مول بھی
کبھی بول بھی
کبھی بول بھی، دلِ سوختہ، دلِ نا خدا، دلِ بے نوا، کبھی بول بھی!

Wednesday, January 15, 2014

Urdu Couplets

Urdu Couplets


یہ نہیں کہ میری محبتوں کو کبھی خراج نہیں ملا
مگر اتفاق کی بات ہے, کوئی ہم مزاج نہیں ملا

مجھے ایسا باغ نہیں ملا, جہاں گل ہوں میری پسند کے
جہاں زندہ رہنے کا شوق ہو مجھے وہ سماج نہیں ملا

Tuesday, January 14, 2014

شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم مِلے تمہیں

Urdu Poetry


شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم مِلے تمہیں
تم سر بسر خوشی تھے مگر غم مِلے تمہیں

تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم مِلے تمہیں

میں اُن میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا
جاناں! جو میرے شوق کے عالم مِلے تمہیں

تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اُس میں بہت خم مِلے تمہیں

یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوّا مِلے مجھے
یوں ہو کہ اور ہی کوئی آدم مِلے تمہیں