Sunday, September 23, 2012

اب نہ لہکے گی

اب نہ لہکے گی 


اب نہ لہکے گی کسی شاخ پہ پھولوں کی حنا 
فصل گل آۓ گی نمرود کے انگار لئے 

اب نہ برسات میں برسے گی گہر کی برکھا 
ابر آۓ گا خس و خار کے انبار لئے 

میرا مسلک بھی نیا راہ طریقت بھی نئی 
میرے قانوں بھی نۓ میری شریعت بھی نئی 

اب فقیہان حرم دست صنم چومیں گے 
سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے 

فرش پر آج در صدق و صفا بند ہوا 
عرش پر آج ہر اک باب دعا بند ہوا 


No comments:

Post a Comment