Tuesday, September 18, 2012

آج کے نام

آج کے نام 


آج کے نام 
اور 
آج کے غم کے نام 

آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا 
زرد پتوں کا بن 
زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے 

درد کی انجمن جو مرا دیس ہے 
کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام 
کرم خوردہ دلوں ور زبانوں کے نام 

پوسٹ مینوں کے نام 
تانگے والوں کے نام 
ریل بانوں کے نام 

کارخانوں کے بھوکے جیالوں کے نام 
بادشاہ جہاں ، والی ما سوا ، نائب الله فی الارض 
دہقاں کے نام 

جس کے ڈھوروں کو ظالم ہنکا لے گۓ 
جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھا لے گۓ 
ہاتھ بھر کھیت سے ایک انگشت پٹوار نے کاٹ لی ہے 

دوسری مالیہ کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے 
جس کی پگ زور والوں کے پاؤں تلے 
دھجیاں ہو گئ ہے 

ان دکھی ماؤں کے نام 
رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور 
نیند کی مار کھاۓ هوئے بازوؤں میں سنبھلتے نہیں 

دکھ بتاتے نہیں 
منتوں زاریوں سے بہلتے نہیں 
ان حسینوں کے نام 

جن کی آنکھوں کے گل 
چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے 
مرجھا گۓ ہیں 

ان بیاہتوں کے نام 
جن کے بدن 
بے محبّت ریا کار سیخوں پہ سج کے اکتا گۓ ہیں 

بیواؤں کے نام 
کڑیوں اور گلیوں ، محلوں کے نام 
جن کی ناپاک خاشاک سے، چاند راتوں 

کو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضو 
جن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا 
آنچلوں کی حنا 

چوڑیوں کی کھنک 
کاکلوں کی مہک 
آرزو مند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو 

پڑھنے والوں کے نام 
وہ جو اصحاب طبل و علم 
کے دروں پر کتاب اور قلم 

کا تقاضا لئے ، ہاتھ پھیلاۓ 
پہنچے ، مگر لوٹ کر گھر نہ آیے 
وہ معصوم جو بھولپن میں 

وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن 
لے کے پہنچے جہاں 
بٹ رہے تھے ، گھٹا ٹوپ ، بے انت راتوں کے ساۓ 

ان اسیروں کے نام 
جن کے سینوں میں فردا کے شب تاب گوہر 
جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی صرصر میں 

جل جل کے انجم نما ہو گۓ ہیں آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام 
وہ جو خوشبوۓ گل کی طرح 
اپنے پیغام پر خود فدا ہو گۓ ہیں 
                    (فیض احمد فیض )

No comments:

Post a Comment